متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے 26 دسمبر 2025 کو پاکستان کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔ یہ ان کا بطور صدر پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے سے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی توقع ہے۔
دورے کی اہمیت اور پس منظر
شیخ محمد بن زاید النہیان مئی 2022 سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ کئی سالوں تک ملک کے امور چلا رہے تھے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے تعلقات ہمیشہ سے قریبی اور دوستانہ رہے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی شہری امارات میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس دورے کو دونوں ممالک کی دوستی کی ایک نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے رواں سال جنوری میں شیخ محمد بن زاید نے رحیم یار خان کا دورہ کیا تھا، لیکن وہ نجی نوعیت کا تھا۔ اب یہ سرکاری دورہ ہے، جو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہوا۔ دفتر خارجہ پاکستان نے اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا اہم موقع قرار دیا۔
استقبال اور پروٹوکول
شیخ محمد بن زاید کا طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا۔ وہاں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراء اور سینئر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستانی فضائیہ کے جے ایف 17 جنگی طیاروں نے ان کے طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی حصار میں لیا اور سلامی پیش کی۔
ایئر بیس پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ پروٹوکول دونوں ممالک کی دوستی اور احترام کی علامت تھا۔ بچوں نے پھول پیش کرکے استقبال کو مزید خوبصورت بنایا۔
ملاقاتیں اور تبادلہ خیال
دورے کے دوران شیخ محمد بن زاید نے وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ مقاصد پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ دورہ نئے سال کی خوشیوں میں اضافہ کر رہا ہے اور تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
اماراتی وفد میں صدر کے مشیر شیخ سلطان بن حمدان النہیان، شیخ محمد بن حمد بن طحنون النہیان اور دیگر سینئر حکام شامل تھے۔
دورے کے اثرات
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ پاکستان امارات کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور وہاں سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر آتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے مثبت پیغام ہے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی اس دورے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور امارات کے تعلقات لازوال ہیں۔
یہ دورہ مختصر مگر بہت اہم تھا، جو دونوں برادر ممالک کی دوستی کو مزید گہرا کر گیا۔