امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کیوں کیا؟

حالیہ دنوں میں دنیا کی نظریں وینزویلا پر مرکوز ہیں۔ 3 جنوری 2026 کو امریکی فورسز نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پر حملہ کیا اور صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو کئی سالوں سے چلے آ رہے تنازعے کا نتیجہ ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس کی تفصیلات، وجوہات، اور دنیا کے ردعمل پر بات کریں گے تاکہ قارئین کو واضح تصویر مل سکے۔ یہ واقعہ نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے خطے کی سیاست اور تیل کی معیشت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

امریکی فوج نے اس کارروائی کو “آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو” کا نام دیا۔ رات کے وقت کاراکاس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کی بجلی منقطع ہو گئی۔ امریکی دستوں نے کئی فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ خصوصی دستے ڈیلٹا فورس نے مادورو کے محفوظ مکان میں داخل ہو کر انہیں گرفتار کیا۔ مادورو نے محفوظ کمرے میں جانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ چند گھنٹوں میں انہیں اور ان کی اہلیہ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، اور پھر نیویارک پہنچا دیا گیا۔ وہاں انہیں منشیات کے مقدمے کا سامنا ہے۔

یہ آپریشن کئی مہینوں کی تیاری کا نتیجہ تھا۔ امریکی خفیہ ایجنسیاں مادورو کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔ حملے میں امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا بڑا استعمال ہوا، اور کاراکاس میں کئی جگہوں پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

حملے اور گرفتاری کی اہم وجوہات

امریکی حکومت کے مطابق یہ کارروائی قانون نافذ کرنے کے لیے تھی۔ مادورو پر 2020 سے منشیات کی تجارت، دہشت گردی کی حمایت اور کوکین کی اسمگلنگ کے الزامات ہیں۔ امریکہ انہیں “کارٹیل آف دی سنز” کا سربراہ قرار دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ مادورو کو کئی بار ملک چھوڑنے کا موقع دیا گیا، مگر انہوں نے انکار کیا۔

دوسری طرف، وینزویلا کے تیل کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر بھی ایک بڑی وجہ سمجھے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ عارضی طور پر وینزویلا چلائے گا اور امریکی کمپنیاں تیل کی صنعت کو ٹھیک کریں گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تیل پر قبضے کی کوشش ہے۔ 2024 کے متنازع انتخابات کے بعد امریکہ مادورو کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات

صدر ٹرمپ نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ امریکہ وینزویلا کو “چلائے گا” جب تک امن بحال نہ ہو جائے۔ انہوں نے تیل کی صنعت کو بحال کرنے اور امریکی کمپنیوں کو موقع دینے کی بات کی۔ سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو اور وزیر دفاع نے اسے منشیات کے خلاف جنگ کا حصہ بتایا۔

وینزویلا کا ردعمل

وینزویلا کی عدالت نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کر دیا۔ حکومت نے اسے “اغوا” اور “جارحیت” قرار دیا اور مزاحمت کا اعلان کیا۔ کچھ شہروں میں مظاہرے ہوئے، جبکہ اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو نے اسے تبدیلی کا موقع کہا۔

عالمی ردعمل

دنیا بھر میں ردعمل تقسیم ہے۔ روس، چین، ایران، کیوبا، برازیل اور میکسیکو نے شدید مذمت کی اور اسے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسرائیل، ارجنٹائن، ایکواڈور اور کچھ یورپی ملکوں نے حمایت کی یا خاموش رہے۔ اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا اور سیکورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا۔

واقعات کا وقت نامہ

امریکہ کی طرف سے وینزویلا میں فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کی ٹائم لائن کچھ یوں ہے۔ یہ معلومات معتبر ذرائع سے لی گئی ہیں اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے

  • مہینوں قبل: امریکی خفیہ ایجنسیاں مادورو کی نگرانی کر رہی تھیں، فوجی تیاریاں اور منصوبہ بندی جاری تھی (2020 سے الزامات اور 2025 میں انعام کا اعلان شامل)۔
  • دسمبر 2025: آپریشن کی آخری تیاریاں، ریہرسلز مکمل، اور حتمی منظوری۔
  • 3 جنوری 2026، رات: کاراکاس میں دھماکے سنائی دیے، بجلی منقطع ہوئی، اور امریکی حملے شروع ہوئے۔
  • 3 جنوری 2026، صبح سویرے: خصوصی دستوں (ڈیلٹا فورس) نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا، ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز پر منتقل کیا۔
  • 3 جنوری 2026، شام: مادورو اور ان کی اہلیہ نیویارک پہنچے، حراست میں لیے گئے، اور منشیات کے الزامات کا سامنا شروع۔
  • 4 جنوری 2026 (جاری): صدر ٹرمپ کا بیان کہ امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کی نگرانی کرے گا، عبوری انتظامات، اور دنیا بھر سے ردعمل۔

یہ واقعہ ابھی جاری ہے اور مستقبل میں مزید تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ وینزویلا کے لوگ امید اور تشویش کے ملے جلے جذبات کا شکار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *