ٹرمپ نے 30 امریکی سفیروں کو واپس کیوں بلا لیا؟

Why did Trump recall 30 USA ambassadors, ٹرمپ نے 30 امریکی سفیروں کو واپس کیوں بلا لیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں تعینات تقریباً 30 کیریئر سفارت کاروں کو سفارتی عہدوں سے ہٹا کر واپس بلا لیا ہے۔ یہ اقدام “امریکہ فرسٹ” ایجنڈے کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ 22 دسمبر 2025 کو سامنے آیا اور سفیروں کو جنوری 2026 کے وسط تک واپس واشنگٹن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان سفارت کاروں پر اثر انداز ہو رہی ہیں جو سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں تعینات ہوئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمول کا عمل ہے، جبکہ ناقدین اسے سفارتی ادارے کی کمزوری اور سیاسی بنیادوں پر تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

خارجہ پالیسی میں نئی سمت اور سفارت کاروں کی واپسی

ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ سفیر صدر کے ذاتی نمائندے ہوتے ہیں اور انہیں “امریکہ فرسٹ” ترجیحات کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ اسی لیے تقریباً 30 کیریئر سفارت کاروں کو مختلف ممالک سے واپس بلایا جا رہا ہے۔ ان میں افریقہ کے سب سے زیادہ ممالک شامل ہیں جہاں 13 سے 15 سفیروں کی تبدیلی ہو رہی ہے۔ ان ممالک میں الجیریا، مصر، نائیجیریا، سینیگل، صومالیہ اور یوگنڈا جیسے اہم ملک شامل ہیں۔

ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں بھی چھ ممالک متاثر ہوئے ہیں، جیسے فلپائن، ویت نام اور دیگر چھوٹے جزائر۔ یورپ میں آرمینیا، شمالی مقدونیہ، مونٹی نیگرو اور سلوواکیہ جیسے ممالک میں سفیروں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے الجیریا اور مصر کے سفیر بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ یہ کوئی نیا عمل نہیں بلکہ ہر نئی انتظامیہ کے دوران ہونے والی معمول کی تبدیلی ہے۔ تاہم امریکی سفارت کاروں کی یونین اور کچھ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غیر معمولی اور اچانک ہے، جس سے سفارتی تجربہ کار عملے کی کمی ہو گی اور امریکہ کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

تنقید اور خدشات

اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس سے سفارتی مشن کمزور ہوں گے، خاص طور پر افریقہ جیسے علاقوں میں جہاں امریکہ کو چین اور روس کے مقابلے میں اپنی موجودگی مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی رینکنگ ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین نے کہا کہ تقریباً 80 سفارتی عہدے خالی ہیں اور اس موقع پر تجربہ کار سفیروں کو ہٹانا امریکہ کی قیادت کو کمزور کر رہا ہے۔

دوسری جانب انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ واپس آنے والے سفارت کار محکمہ خارجہ میں نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور ٹرمپ کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں مدد دیں گے۔

یہ پیش رفت ٹرمپ کے دوسرے دور میں خارجہ پالیسی کی سمت کو واضح کر رہی ہے، جہاں وفاداری اور نئی ترجیحات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین خبریں