ترجمان پاک فوج نے عمران خان کو ذہنی مریض اور بھونکتا کتا کیوں کہا؟

Why did DG ISPR call Imran Khan a mentally ill person and a barking dog

پاکستان کی سیاست میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ 5 دسمبر 2025 کو راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سابق وزیراعظم عمران خان پر کھل کر حملہ کیا اور انہیں “ذہنی مریض” اور “بھونکتا کتا” جیسے سخت الفاظ کہے۔ یہ پریس کانفرنس فوج کی طرف سے برسوں کی خاموشی توڑنے والی سب سے تیز بیان بازی تھی۔ اس کے فوری بعد سرکاری حلقوں اور پی ٹی آئی کے اراکین کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا، جس نے تناؤ کو مزید بڑھا دیا۔ اس مضمون میں ہم آپ کو مکمل واقعہ، اہم باتیں، پس منظر، سرکاری اور اراکین کے ردعمل کی تفصیل سے آگاہ کریں گے۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کو کم از کم 12 بار “ذہنی مریض” کہا
  • عمران خان کے بیانیے کو “قومی سلامتی کے لیے خطرہ” قرار دیا گیا
  • کہا گیا کہ “جو کتا بھونک رہا ہوتا ہے اس کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں”
  • پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چلنے کے ثبوت پیش کیے گئے
  • عمران خان کی این ڈی یو میں شرکت کی تنقید پر جواب دیا گیا کہ “اس منطق سے تو پوری فوج غدار ہو جائے گی”
  • آئی ایم ایف کو خط، بجلی کے بل نہ بھرنے کی مہم اور برآمدات روکنے کی اپیل کو “ملک دشمن اقدامات” قرار دیا
  • خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور پی ٹی آئی پر ممکنہ پابندی کو “سول حکومت کا فیصلہ” بتایا
  • فوج نے واضح کیا کہ 9 مئی کے ملزموں کو سزا ضرور ملے گی، چاہے وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں

عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں اور ان پر درجنوں مقدمات چل رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ فوج نے ان کی حکومت گرائی، جبکہ فوج کہتی ہے کہ وہ سیاست سے دور ہے۔ حالیہ مہینوں میں عمران خان نے فوج پر کھل کر تنقید شروع کی، جس کا جواب اب اس پریس کانفرنس کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ بیانات نہ صرف ذاتی تھے بلکہ قومی سطح پر تناؤ بڑھانے والے بھی، جو اب سرکاری اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے فوری بعد سرکاری سطح پر ردعمل سامنے آیا، جو عموماً فوج کے موقف کی تائید کرتا ہے۔ انفارمیشن منسٹر عطاء اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتیں مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں، اور کہا کہ پی ٹی آئی نے خود تمام دروازے بند کر لیے ہیں، اب کوئی مذاکرات ممکن نہیں۔ یہ قدم پریس کانفرنس کو فالو اپ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں فوج نے عمران خان کے جیل سے بیانیہ پھیلانے کو روکنے پر زور دیا۔ سرکاری حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے بیانات جو فوج اور ریاست کے خلاف ہوں، قانون کے دائرے میں ناقابل برداشت ہیں، اور یہ قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ کئی سرکاری ترجمانوں نے فوج کی طرف سے دیے گئے ثبوتوں کو درست قرار دیا، جیسے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بیرونی کنکشنز۔

  • بریسٹر گوہر علی خان (پی ٹی آئی چیئرمین): انہوں نے پریس کانفرنس کو “مایوس کن” قرار دیا اور کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے منصب پر سنجیدگی اور وقار کی توقع تھی، مگر یہ سڑک کی لڑائی جیسا غصہ لگا۔ انہوں نے ڈی ایسکلیشن اور ڈائلاگ کی اپیل کی، اور کہا کہ ملک کو مزید تناؤ برداشت نہیں ہو سکتا۔
  • شاہد خٹک (عمران خان کا قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر): انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر استعمال ہونے والے لفظوں کو “پوری پختون قوم اور قبائلی عوام کی توہین” کہا۔
  • پی ٹی آئی آفیشل اکاؤنٹ: انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے والد بشیر الدین چوہدری کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے “دہشت گرد” کے طور پر درج نام کا ذکر کیا، اور کہا کہ ایسا شخص دوسروں پر الزام لگائے تو یہ مزاق ہے۔ یہ پوسٹ ہزاروں لائکس اور ری پوسٹس حاصل کر چکی ہے۔
  • نورین نیازی (پی ٹی آئی رہنما): انہوں نے کہا کہ قوم اداروں سے شائستگی اور تحمل چاہتی ہے، نہ کہ اشتعال انگیزی، اور پریس کانفرنس دیکھ کر شدید افسوس ہوا۔
  • پی ٹی آئی حامیوں نے اسے “فوج کی سیاسی مداخلت” اور “جمہوریت پر حملہ” قرار دیا
  • کئی لوگوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی زبان کو “غیر مناسب” اور “توہین آمیز” کہا
  • دوسری طرف فوج کے حامیوں نے عمران خان کو “ملک دشمن” اور “بھارتی ایجنڈے” پر چلنے والا قرار دیا
  • انڈین میڈیا نے اس بیانات کو بھرپور کوریج دی جو فوج کے الزامات کی تصدیق کرتی نظر آئی

ماہرین کے مطابق یہ بیانات پاکستان کی سیاست میں نئی تقسیم لا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی مزید جارحانہ ہو سکتی ہے جبکہ حکومت اور فوج پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کی کوشش تیز کر سکتی ہے۔ سرکاری طور پر جیل ملاقاتوں پر پابندی سے پی ٹی آئی کا بیانیہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے، اور یہ تناؤ احتجاج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ملک کو اس وقت اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے مگر ایسے بیانات مزید انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا عمران خان پر یہ براہ راست اور سخت حملہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔ سرکاری حلقوں کی طرف سے فوری اقدامات جیسے ملاقاتوں پر پابندی اور پی ٹی آئی اراکین کی شدید تنقید سے واضح ہے کہ یہ تنازعہ جلد ختم نہیں ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس کا کیا جواب دیتی ہے اور آئندہ دنوں میں سیاسی منظر نامہ کس طرف جاتا ہے۔ اللہ پاکستان کو امن و سلامتی عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین خبریں