PIA’s Journey from Rise to Decline: Who Is Really Responsible? | پی آئی اے کا عروج سے زوال تک کا سفر: اصل ذمہ دار کون ہے؟
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری مکمل ہو گئی ہے، جو ملک کی معیشت اور قومی ایئرلائن کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ 23 دسمبر 2025 کو ہونے والی شفاف بولی میں عارف حبیب گروپ کی قیادت میں کنسورشیم نے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں حاصل کر لیے۔ یہ ایک ایسے ادارے کی نئی شروعات ہے جو کبھی ایشیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتا تھا اور دنیا بھر میں پاکستان کا فخر تھا۔ اب نئے مالکان کی ذمہ داری ہے کہ پی آئی اے کو دوبارہ اس کے سنہری دور کی بلندیوں پر پہنچائیں۔
اہم نکات
- عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی جیت لی، جس سے حکومت کو 10 ارب روپے نقد ملیں گے جبکہ باقی رقم ایئرلائن کی بحالی پر خرچ ہو گی۔
- یہ پاکستان کی دو دہائیوں میں پہلی بڑی نجکاری ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ کی شرطوں کا حصہ ہے۔
- پی آئی اے کا سنہری دور 1950 اور 1970 کی دہائیوں میں تھا جب یہ دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل تھی۔
- نئے مالکان اپریل 2026 سے انتظام سنبھالیں گے اور طیاروں کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
پی آئی اے کا سنہری دور اور عالمی کامیابیاں
پی آئی اے کی بنیاد 1955 میں پڑی جب اورینٹ ایئرویز کو سرکاری ادارے میں ضم کیا گیا۔ مگر اس کا حقیقی عروج 1959 سے شروع ہوا جب ایئر مارشل نور خان نے انتظام سنبھالا۔ اس دور کو ایوی ایشن کی تاریخ میں “پی آئی اے کا سنہری دور” کہا جاتا ہے۔ صرف چند سالوں میں پی آئی اے ایشیا کی صف اول کی ایئرلائن بن گئی۔ اس نے بوئنگ 707 جیٹ طیارے متعارف کرائے، لندن سے کراچی کا فاصلہ ریکارڈ وقت میں طے کیا اور دنیا کی پہلی غیر کمیونسٹ ایئرلائن بنی جو چین گئی۔
پی آئی اے نے ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ شروع کیا، پیرس کے مشہور ڈیزائنر پیئر کارڈن سے یونیفارمز ڈیزائن کروائیں اور ایمریٹس ایئرلائن کی بنیاد رکھنے میں مدد کی۔ اس کے پائلٹس نے لندن سے کراچی کا سفر چھ گھنٹے سے کم میں طے کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ایک وقت میں پی آئی اے کی پروازیں دنیا بھر میں 100 سے زائد شہروں تک جاتی تھیں اور اس کی سروس کو “گریٹ پیپل ٹو فلائی ود” کا نعرہ ملا جو امریکی خاتون اول جیکلین کینیڈی نے بھی دہرایا۔
زوال کی وجوہات اور نجکاری کی ضرورت
سنہری دور کے بعد سیاسی مداخلت، زیادہ ملازمین، خراب انتظام اور کرپشن نے پی آئی اے کو کمزور کر دیا۔ یہ اربوں روپے کا نقصان اٹھاتی رہی اور سرکاری خزانے پر بوجھ بنی۔ 2020 میں پائلٹس لائسنسز کا سکینڈل سامنے آیا جس پر یورپ اور برطانیہ نے پابندیاں لگائیں مگر 2025 میں یہ پابندیاں اٹھ گئیں۔ حکومت نے قرضے اپنے ذمہ لے کر ایئرلائن کو نجکاری کے قابل بنایا۔
پی آئی اے کی کہانی پاکستان کی ترقی اور چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ 1946 میں اورینٹ ایئرویز کے طور پر شروع ہونے والی یہ ایئرلائن 1955 میں پی آئی اے بنی اور جلد ہی عالمی سطح پر مشہور ہو گئی۔ ایئر مارشل نور خان اور اصغر خان کے دور میں یہ ایشیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل تھی۔ پی آئی اے نے بوئنگ 777-200LR کا پہلا کسٹمر بن کر لمبی پروازوں کا ریکارڈ قائم کیا، چین کے لیے پہلی غیر کمیونسٹ پرواز اڑائی اور ایمریٹس کو طیارے اور ماہرین دے کر اس کی بنیاد رکھی۔
سنہری دور کی تفصیلات
1960 کی دہائی میں پی آئی اے نے یورپ، امریکہ اور ایشیا کے بڑے شہروں تک پروازیں شروع کیں۔ اس کی سروس، وقت کی پابندی اور مہمان نوازی عالمی سطح پر مشہور تھی۔ پائلٹ عبداللہ بیگ نے لندن سے کراچی کا سفر ریکارڈ رفتار سے طے کیا۔ ہیلی کاپٹر سروسز سے دور دراز علاقوں کو جوڑا گیا۔ پی آئی اے نے ان فلائٹ فلمیں دکھانا شروع کیا اور جدید ریزرویشن سسٹم متعارف کروایا۔ یہ دور ترقی، توسیع اور عالمی شہرت کا تھا۔
بولی اور نجکاری کا عمل
23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں لائیو ٹیلی کاسٹ بولی ہوئی۔ تین گروپوں نے حصہ لیا مگر عارف حبیب کنسورشیم (جس میں فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں) نے 135 ارب روپے کی بولی جیت لی۔ لکی سیمنٹ گروپ قریب پہنچا مگر پیچھے رہ گیا۔ یہ رقم ایئرلائن کی کل مالیت 180 ارب روپے کے حساب سے طے ہوئی۔ حکومت کو 10 ارب روپے نقد ملیں گے جبکہ باقی ایئرلائن میں سرمایہ کاری ہو گی۔
حکومتی اور عوامی ردعمل
وزیراعظم شہباز شریف نے اسے تاریخی دن قرار دیا اور کہا کہ نقصان دہ اداروں کی نجکاری کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ اور نجکاری کے مشیر نے شفافیت کی تعریف کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نجی شعبہ پی آئی اے کو بہتر چلا سکتا ہے۔ کچھ تنقید بھی ہے کہ قومی اثاثہ کم داموں بیچا گیا مگر زیادہ لوگ خوش ہیں کہ اب سرکاری بوجھ ختم ہو گا۔
آئندہ کے چیلنجز اور توقعات
نئے مالکان کو ملازمین کے حقوق کا خیال رکھنا ہو گا، ایک سال تک نوکریاں برقرار رکھنی ہوں گی اور پانچ سالہ بحالی پلان پر عمل کرنا ہو گا۔ عارف حبیب گروپ نے وعدہ کیا کہ طیاروں کی تعداد 64 تک بڑھائی جائے گی، سروس بہتر کی جائے گی اور غیر ملکی شراکت دار لائے جائیں گے۔ امید ہے کہ پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور کی طرح پاکستان کا فخر بنے گی اور دنیا میں بلند پرواز کرے گی۔
What led to PIA’s decline after its golden era?
PIA’s decline was caused by political interference, overstaffing, poor management, and corruption, which resulted in financial losses and a weakened airline reputation over the years.
Who took over PIA during its privatization?
The Arif Habib Consortium, which includes Fatima Fertilizer, City Schools, and Lake City Holdings, acquired 75% of PIA’s shares for PKR 135 billion in a transparent bid held on December 23, 2025.
What was PIA’s golden era?
PIA’s golden era spanned from the late 1950s to the 1970s under Air Marshal Nur Khan and Asghar Khan, when it became one of Asia’s top airlines, introduced Boeing 707 jets, pioneered in-flight entertainment, and flew globally recognized routes.
What are the plans of the new owners for PIA?
The new owners plan to take over management in April 2026, expand the fleet to 64 aircraft, improve service quality, and bring in international partners to restore PIA’s former global standing.
Why was PIA privatized?
Privatization was necessary to reduce the financial burden on the government, address years of accumulated losses, and enable investment in fleet expansion and modernization, aiming to revive PIA as a profitable and globally competitive airline.