پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی موڑ آئی ہے جہاں وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔ یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، احتجاجوں اور سیکورٹی خدشات کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ عمران خان گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور حالیہ دنوں میں ان کی فیملی کو ملاقاتوں سے روکا جا رہا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس خبر کی تفصیلات، سرکاری بیانات اور پس منظر پر روشنی ڈالیں گے تاکہ قارئین کو مکمل تصویر مل سکے۔
پس منظر اور حالیہ واقعات
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کی بات اس وقت شدت اختیار کر گئی جب حکومت نے پی ٹی آئی پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے احتجاج ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش ہیں۔ حالیہ دنوں میں عمران خان کی بہنیں، عظیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کیا جب انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس نے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا، جس سے کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ یہ احتجاج گزشتہ ہفتے کا ہے جب عظمیٰ خان کو آخری بار ملاقات کی اجازت ملی تھی۔
اس سے پہلے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی جیل کے باہر 16 گھنٹے کا دھرنا دیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج راولپنڈی اور اڈیالہ روڈ کے مکینوں کی زندگی اجیرن کر رہے ہیں۔ بچوں کو سکول جانے اور لوگوں کو گھر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عمران خان کو “قیدی نمبر 804” کہہ کر مخاطب کیا جا رہا ہے اور ان کی صحت کے بارے میں افواہیں بھی گردش میں ہیں، لیکن سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
سرکاری بیانات اور فیصلے
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اور خیبرپختونخوا امور اختر ولی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “سیاسی تصادم اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن لگتی ہے۔” اختر ولی نے پی ٹی آئی پر ملک سے محبت اور عمران سے محبت میں فرق نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ پارٹی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو دہشت گردی کو ہوا دینے والا قرار دیا اور کہا کہ “ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں۔”
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی بیان دیا کہ اپوزیشن فوج اور عدلیہ پر حملے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن اپوزیشن صرف چیف آف ڈیفنس سٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات کرنا چاہتی ہے۔ ایاز صادق نے کہا، “یہ وہ فوج ہے جس نے بھارت کو شکست دی، لیکن اپوزیشن اس پر تنقید کر رہی ہے۔” انفارمیشن منسٹر عطا اللہ تارڑ نے ملاقاتوں پر پابندی کی تصدیق کی اور کہا کہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عمران خان کو “ذہنی طور پر بیمار” اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں اور خیبرپختونخوا میں کوئی “بلے” کے نشان پر الیکشن لڑنے کو تیار نہیں۔ اختر ولی نے یہ بھی الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھارت اور اسرائیل سے چلایا جا رہا ہے۔
منتقل کرنے کی وجوہات
حکومت کی جانب سے عمران خان کو منتقل کرنے کی بنیادی وجوہات میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور احتجاج شامل ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کے بہانے بدامنی پھیلا رہی ہے اور ریاستی اداروں پر حملے کر رہی ہے۔ فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنانا ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اختر ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست “لاشوں کی سیاست” ہے جو تشدد اور انتشار چاہتی ہے۔
اس کے علاوہ، اڈیالہ جیل کے آس پاس کے علاقوں میں مقامی لوگوں کی مشکلات بھی ایک وجہ ہیں۔ ہفتہ وار احتجاج سے ٹریفک جام اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کو 2013 میں “متعارف” اور 2018 میں “مسلط” کیا گیا، لیکن اب پارٹی کی حکمرانی میں خیبرپختونخوا میں کوئی بڑا ہسپتال یا یونیورسٹی نہیں بنی۔ یہ الزامات پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔
ممکنہ طور پر عمران خان کو کسی دوسرے صوبے کی جیل میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جیسے اٹک جیل یا کوئی دور دراز جگہ، تاکہ احتجاج کم ہو سکیں اور سیکورٹی بہتر ہو۔ تاہم، مخصوص جگہ کی تفصیلات ابھی نہیں بتائی گئیں۔
پی ٹی آئی کا ردعمل اور سیاسی اثرات
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ “یہ کارپوریٹ دنیا نہیں جہاں ایک دو کو ہٹا کر باقی رکھا جائے۔ اگر ہمیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تو کوئی باقی نہیں رہے گا۔” پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی تجاویز پر تنقید کی اور کہا کہ پارٹی جمہوریت کی حفاظت کرے گی اور دہشت گردی کے خلاف لڑے گی۔
یہ صورتحال پاکستان کی سیاست کو مزید تقسیم کر رہی ہے۔ بات چیت کے دروازے بند ہونے سے بحران بڑھ سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، جبکہ حکومت قومی سلامتی کی بات کر رہی ہے۔ اس تنازعے سے ملک کی معیشت اور استحکام پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
نتیجہ اور ممکنہ مستقبل
یہ خبر پاکستان کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر عمران خان کو منتقل کیا گیا تو پی ٹی آئی کے احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے تاکہ ملک میں امن برقرار رہے۔ قارئین کو مشورہ ہے کہ سرکاری ذرائع سے تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔