کرسمس 25 دسمبر کو نہیں ہے تو پھر کس دن ہے؟

If Christmas Isn't on December 25, Then Which Day Is It

کرسمس دنیا بھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی یاد میں منایا جانے والا ایک بڑا تہوار ہے۔ یہ مسیحی برادری کا اہم دن ہے جو خوشی، محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کی روح کو اجاگر کرتا ہے۔ تاہم اس کی تاریخ بہت پرانی اور پیچیدہ ہے، جس میں مذہبی، ثقافتی اور قدیم روایات کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ آج 25 دسمبر کو کرسمس منانے کا رواج عام ہے، مگر یہ تاریخ حضرت عیسیٰ کی اصل ولادت سے براہ راست منسلک نہیں۔ آئیے اس کی ابتدا اور ارتقاء کو سمجھتے ہیں۔

کرسمس کی ابتدا اور حضرت عیسیٰ کی ولادت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی درست تاریخ بائبل میں بھی واضح نہیں۔ مسیحی علماء کا ماننا ہے کہ یہ موسم بہار میں ہوئی ہوگی، کیونکہ انجیل میں چرواہوں کا میدان میں رات گزارنے کا ذکر ہے، جو سردیوں میں ممکن نہیں۔ ابتدائی مسیحیوں نے تین صدیوں تک ولادت کا کوئی خاص تہوار نہیں منایا۔ ان کا توجہ کا مرکز عید فصح (ایسٹر) تھی، جو حضرت عیسیٰ کی موت اور جی اٹھنے کی یاد دلاتی ہے۔

چوتھی صدی میں رومن سلطنت میں عیسائیت کے پھیلاؤ کے ساتھ کرسمس کا رواج شروع ہوا۔ پہلا ریکارڈ شدہ جشن 336 عیسوی میں روم میں منایا گیا۔ اس سے پہلے مختلف مسیحی گروہ مختلف تاریخوں پر ولادت مناتے تھے، جیسے جنوری یا مارچ۔

تاریخ 25 دسمبر کا انتخاب کیوں ہوا؟

تاریخ 25 دسمبر کے انتخاب کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ کچھ علما کا خیال ہے کہ یہ قدیم رومی تہواروں سے متاثر ہے۔ رومن لوگ دسمبر میں سیٹرنیلیا مناتے تھے، جو زراعت کے دیوتا سیٹرن کی یاد میں منایا جاتا تھا۔ اس تہوار میں کھانے پینے، تحائف دینے اور خوشیاں منانے کا رواج تھا۔ اس کے علاوہ سول انویکٹس (ناقابلِ شکست سورج) کا تہوار بھی 25 دسمبر کو منایا جاتا تھا، جو سردیوں کے بعد دنوں کے طویل ہونے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

مگر جدید تحقیق بتاتی ہے کہ یہ تاریخ مسیحی عقائد سے بھی جڑی ہے۔ ابتدائی مسیحیوں نے حساب لگایا کہ حضرت عیسیٰ کی موت 25 مارچ کو ہوئی، اور یہودی روایت کے مطابق اہم شخصیات کی موت اور تصور ایک ہی دن ہوتا ہے۔ چنانچہ تصور 25 مارچ اور ولادت نو ماہ بعد 25 دسمبر۔ یہ “حساب کی تھیوری” کہلاتی ہے اور قدیم تہواروں سے براہ راست نقل نہیں۔

بعض علماء کہتے ہیں کہ چرچ نے یہ تاریخ اس لیے چنی تاکہ نئے مسیحیوں کو قدیم روایات چھوڑنے میں آسانی ہو۔ مگر یہ مکمل طور پر پرانے تہواروں کی نقل نہیں، بلکہ ایک نیا مسیحی جشن ہے۔

کرسمس کی روایات کا ارتقاء

کرسمس کی بہت سی روایات بعد میں شامل ہوئیں

  • کرسمس ٹری: یہ جرمنی سے شروع ہوا، جہاں سدا بہار درختوں کو سردیوں میں سجایا جاتا تھا۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ سولہویں صدی میں جرمن مسیحیوں نے اسے گھروں میں رکھنا شروع کیا۔
  • تحائف اور سانتا کلاز: تحائف دینے کا رواج سیٹرنیلیا سے آیا، مگر سانتا کلاز سینٹ نکولس سے متاثر ہے، جو غریبوں کی مدد کرتے تھے۔
  • کارولز اور ضیافتیں: یہ قرون وسطیٰ میں یورپ میں عام ہوئیں۔

آج کرسمس صرف مذہبی نہیں، بلکہ ثقافتی تہوار ہے جو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

کرسمس کی تاریخ ایک لمبا سفر طے کر چکی ہے۔ ابتدائی مسیحی دور میں یہ تہوار موجود نہیں تھا، مگر چوتھی صدی سے یہ مسیحی کیلنڈر کا حصہ بنا۔ 25 دسمبر کی تاریخ مسیحی حساب کتاب اور قدیم رومی تہواروں کے امتزاج سے آئی۔ سیٹرنیلیا اور سول انویکٹس جیسے جشنوں نے کچھ روایات دیں، جیسے تحائف، ضیافتیں اور روشنیاں، مگر کرسمس کی بنیاد حضرت عیسیٰ کی ولادت پر ہے۔

قرون وسطیٰ میں یہ تہوار یورپ بھر میں پھیلا۔ جرمن روایات جیسے کرسمس ٹری اور نورڈک یول (سردیوں کا جشن) نے اسے رنگ دیا۔ انیسویں صدی میں امریکہ اور برطانیہ میں یہ جدید شکل اختیار کر گیا، جہاں چارلس ڈکنز کی کتابوں اور کوکا کولا کی تشہیر نے سانتا کلاز کو مقبول بنایا۔

آج کرسمس کے موقع پر چرچ کی عبادتیں، گھروں کی سجاوٹ، تحائف کا تبادلہ، کارولز اور خاندانی میل جول شامل ہوتا ہے۔ یہ تہوار خوشی، محبت اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔ تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان نے کرسمس کی اصل روح کو کسی حد تک متاثر کر دیا ہے۔

موجودہ شکلممکنہ ابتداروایت
عالمی کرسمس ڈےمسیحی حساب (مارچ ۲۵ + ۹ ماہ) اور رومی تہوارتاریخ ۲۵ دسمبر کی تاریخ
قمقموں سے سجا درختجرمن سدا بہار درختکرسمس ٹری
سانتا سے تحائفسیٹرنیلیاتحائف دینا
برقی لائٹس اور آرائشیںسردیوں کی تاریکی میں امیدروشنیاں اور سجاوٹ

کرسمس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریک سردیوں کے بعد روشنی آتی ہے، اور محبت بانٹنے سے زندگی خوبصورت ہوتی ہے۔ یہ تہوار مختلف ثقافتوں کا ملغوبہ ہے، جو وقت کے ساتھ بدلتا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین خبریں