ڈکی بھائی، جو پاکستان کے مشہور یوٹیوب سٹار ہیں، نے حال ہی میں اپنے 100 دن کی جیل کی کہانی شیئر کی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو نظام کی خامیوں کو سامنے لاتی ہے، جہاں ایک عام آدمی کو گرفتار کر کے تشدد کیا جاتا ہے اور پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ اس بلاگ میں ہم اس پوری کہانی کی تفصیلات بیان کریں گے، جو ڈکی بھائی نے اپنے یوٹیوب ویڈیو میں بیان کیں اور مختلف نیوز سورسز سے حاصل کی گئیں۔ یہ ایک انسانی کہانی ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف کیسے ملتا ہے۔
گرفتاری کا آغاز
ڈکی بھائی، جن کا اصل نام سعد الرحمٰن ہے، اور ان کی بیوی عروب 16 اگست 2025 کو ائیرپورٹ پر ملائیشیا جانے کے لیے تیار تھے۔ امیگریشن افسران نے انہیں روکا اور پوچھا کہ کیا کوئی ایف آئی آر ہے یا سائبر کرائم کا کیس۔ ڈکی بھائی نے انکار کیا، لیکن ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں تھا۔ اس کے بعد این سی سی آئی اے کے افسران نے انہیں گرفتار کر لیا۔ عروب کو اکیلا جانے دیا گیا، جبکہ ڈکی بھائی کو این سی سی آئی اے کے لاہور آفس لے جایا گیا۔ وہاں ان سے جوئے کی ایپس کے بارے میں پوچھ گچھ ہوئی۔ ڈکی بھائی نے مکمل تعاون کیا اور اپنے فون، جی میل اور لیپ ٹاپ کے پاس ورڈ دے دیے۔ یہ گرفتاری مبینہ طور پر جوئے کی ایپس کی پروموشن کی وجہ سے تھی، لیکن ڈکی بھائی کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف پیسے نکالنے کے لیے تھی۔
گرفتاری کے بعد انہیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور ان کی فیملی کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے والد، جو دل کے مریض ہیں، کو آپریشن کی ضرورت تھی لیکن اکاؤنٹس منجمد ہونے کی وجہ سے پیسے نہیں مل سکے۔ فیملی کو عدالتوں کے چکر لگانے پڑے اور دھمکیاں ملیں۔
تشدد اور ذہنی اذیت
این سی سی آئی اے کے آفس میں ڈکی بھائی کو شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض نے پوچھ گچھ کی، جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری نے انہیں بار بار تھپڑ مارے۔ ایک موقع پر ایک سات سال کے بچے کو ویڈیو کال پر دکھایا گیا اور اسے ڈکی بھائی کو گالیاں دینے کا کہا گیا۔ یہ منظر ڈکی بھائی کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا اور انہیں ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کی گئی۔ جیل میں انہیں ایک چھوٹی اور گندی سیل میں رکھا گیا، جہاں وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہوئے۔ ایک بار انہوں نے جیل میں ایک دوست سے اپنی تکلیف کا ذکر کیا، جو ٹی وی پر نشر ہو گئی، جس کے بعد مزید مار پیٹ ہوئی۔ ڈکی بھائی کا کہنا ہے کہ یہ سب پیسے کے لیے کیا گیا۔
جیل کے دنوں میں انہیں فیملی سے ملنے کی اجازت بھی محدود تھی۔ پہلی ملاقات شیشے کے پیچھے سے فون پر ہوئی۔ یہ 23 دن کا فزیکل ریمانڈ تھا، جس کے بعد جیل میں منتقل کیا گیا۔ ڈکی بھائی نے بتایا کہ وہ راتوں کو روتے تھے اور سوچتے تھے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔
بھتہ خوری اور مالی نقصان
گرفتاری کے پیچھے اصل مقصد پیسے نکلوانا تھا۔ افسران نے ڈکی بھائی سے 7 سے 8 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا، جو بعد میں 60 لاکھ تک کم ہوا۔ ان کی بیوی عروب سے 60 لاکھ روپے لیے گئے، جو رشتہ داروں سے ادھار لیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، ان کے بائنانس اکاؤنٹ سے 326000 یو ایس ڈی ٹی (تقریباً 9 کروڑ پاکستانی روپے) افسران کے ذاتی والٹ میں منتقل کیے گئے۔ افسران نے بعد میں یہ پیسے “ریکورڈ” کے طور پر پیش کیے۔ فیملی کے تمام اکاؤنٹس، بشمول والدین اور دادا کے، منجمد کر دیے گئے۔ عروب کو بھی ایف آئی آر میں شامل کرنے کی دھمکی دی گئی اور ان کا فون ضبط کر لیا گیا۔ یہ سب کچھ ڈکی بھائی کو دباؤ میں لانے کے لیے تھا۔
ایک پرائیویٹ شخص اور افسران نے اشاروں میں بتایا کہ پیسے دے کر معاملہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ ڈکی بھائی کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری جوئے کی ایپس سے متعلق نہیں تھی بلکہ صرف مالی فائدے کے لیے تھی۔
| اہم واقعہ (دائیں سے بائیں پڑھیں) | تاریخ اور وقت |
|---|---|
| لاہور ائیرپورٹ سے ڈکی بھائی اور عروب کو ملائیشیا جانے سے روکا گیا، صرف ڈکی بھائی گرفتار | 16 اگست 2025 رات 11 بجے |
| این سی سی آئی اے لاہور آفس پہنچے، ہتھکڑیاں لگیں، فون اور لیپ ٹاپ ضبط، پاس ورڈ مانگے گئے | 17 اگست 2025 صبح |
| 23 دن کا فزیکل ریمانڈ، شدید تشدد شروع – سرفراز چوہدری اور شعیب ریاض نے خود تھپڑ مارے | 17 اگست تا 8 ستمبر 2025 |
| عروب سے 60 لاکھ روپے نقد لیے گئے (رشتہ داروں سے ادھار مانگ کر دیے) | 25 اگست 2025 |
| بائنانس اکاؤنٹ سے 326,000 USDT (تقریباً 9 کروڑ روپے) افسران کے والٹ میں منتقل | 5 ستمبر 2025 |
| فزیکل ریمانڈ ختم، کوٹ لکھپت جیل منتقل، چھوٹی گندی سیل ملی | 8 ستمبر 2025 |
| جیل میں ٹی وی انٹرویو لیک ہوا، اس پر دوبارہ شدید مار پیٹ ہوئی | 20 ستمبر 2025 |
| ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری معطل | 10 اکتوبر 2025 |
| عروب کی شکایت پر ایف آئی آر نمبر 36/2025 درج، 9 افسران نامزد | 27 اکتوبر 2025 |
| 6 افسران گرفتار: سرفراز چوہدری، شعیب ریاض، زوار احمد، علی رضا، یاسر رمضان، مجتبیٰ ظفر | 28 اکتوبر 2025 |
| لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا | 3 نومبر 2025 |
| جسٹس شاہ رام سرور نے ضمانت منظور کی | 25 نومبر 2025 |
| 103 دن بعد گھر پہنچے، فیملی سے گلے ملے | 28 نومبر 2025 شام 6 بجے |
| یوٹیوب پر 45 منٹ کی ویڈیو اپ لوڈ کی – 24 گھنٹوں میں 15 ملین ویوز | 7 دسمبر 2025 رات 10 بجے |
انصاف کا حصول اور رہائی
ڈکی بھائی کی فیملی نے شکایت درج کروائی، جس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری کو معطل کر دیا گیا۔ انویسٹی گیشن آفیسر شعیب ریاض اور دیگر افسران کو کرپشن، تشدد اور بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ کئی افسران نے استعفیٰ دے دیا۔ کیس اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ اور ایف آئی اے کو منتقل ہوا۔ ایک سینئر انٹیلی جنس افسر، جسے ڈکی بھائی نے “بگ برادر” کہا، نے مدد کی اور فیملی کو مزید پیسے نہ دینے کا مشورہ دیا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس شاہ رام سرور نے 100 دن بعد ضمانت دی۔ ڈکی بھائی نے ملٹری انٹیلی جنس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی۔
رہائی کے بعد ڈکی بھائی نے7 دسمبر 2025 کو یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کی، جس میں انہوں نے اپنی کہانی بیان کی۔ جیل میں رہتے ہوئے ان کے سبسکرائبرز 9 ملین ہو گئے۔ وہ اب نئی ویڈیوز اور پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں اور پاکستان میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اختتامی خیالات
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتور اداروں میں کرپشن کیسے عام لوگوں کی زندگیاں تباہ کر سکتی ہے۔ ڈکی بھائی جیسے مشہور شخص کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا؟ یہ ایک سبق ہے کہ انصاف کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔ ڈکی بھائی نے اپنی کہانی شیئر کر کے دوسروں کو حوصلہ دیا ہے۔ امید ہے کہ ایسے واقعات کم ہوں اور نظام بہتر ہو۔