پاکستان کے مشہور یوٹیوب سٹار سعد الرحمٰن، جو ڈکی بھائی کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے حال ہی میں ایک لمبا وی لاگ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست میں گزارے گئے سو دنوں کی تکلیف دہ کہانی بیان کی۔ یہ وی لاگ نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ایک پراسرار شخصیت ’بگ بردر‘ کی مدد کا بھی ذکر کرتا ہے، جس نے ان اور ان کے خاندان کو مشکل حالات سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ پاکستان میں سائبر کرائم کی تحقیقات اور حکومتی اداروں کی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ رہا ہے، جہاں کرپشن اور طاقت کا غلط استعمال سامنے آ رہا ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس واقعے کی تفصیلات، ڈکی بھائی کی حراست کی وجوہات اور ’بگ بردر‘ کی مدد کیسے ملی، اس پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ کہانی نہ صرف انفرادی جدوجہد کی ہے بلکہ انصاف کی تلاش کی بھی۔
ڈکی بھائی کی گرفتاری اور حراست کی تفصیلات
ڈکی بھائی کو 16 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جب وہ ملائیشیا جانے والے تھے۔ این سی سی آئی اے نے ان پر جوا ایپس کی تشہیر کا الزام لگایا، جو کہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت جرم ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں 23 دنوں کی جسمانی ریمانڈ پر لیا گیا، جس دوران انہوں نے شدید ذہنی اور جسمانی اذیتیں برداشت کیں۔ ان کے وی لاگ کے مطابق، این سی سی آئی اے کے افسران نے انہیں مارا پیٹا، توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور ان کے کرپٹو اکاؤنٹ سے تین لاکھ 26 ہزار ڈالر ضبط کر لیے، جو بعد میں افسران کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئے۔
ڈکی بھائی نے بتایا کہ حراست کے پہلے دن سے ہی وہ بے بسی کا شکار تھے۔ افسران نے انہیں دھمکیاں دیں اور خاندان پر دباؤ ڈالا کہ رشوت دی جائے۔ ان کی بیوی اروب جتوئی نے الگ سے شکایت درج کروائی کہ افسران نے نو ملین روپے رشوت مانگی۔ یہ حراست نہ صرف ان کی آزادی چھین گئی بلکہ ان کے خاندان کو بھی شدید جذباتی صدمہ پہنچا۔ لاہور ہائی کورٹ نے نوامبر 2025 میں انہیں ضمانت دی، لیکن حتمی رہائی 26 نومبر کو ہوئی۔ اس دوران ان کے بھائی ضیاء زلفقار نے میڈیا کو بتایا کہ ڈکی بھائی شدید تناؤ میں تھے اور راتوں کو روتے رہتے تھے۔
بگ بردر کی شناخت اور مدد کا طریقہ
ڈکی بھائی کے وی لاگ کا سب سے دلچسپ حصہ ’بگ بردر‘ کا ہے، جو ایک پراسرار شخصیت ہے۔ ڈکی بھائی کے مطابق، یہ شخص ملٹری انٹیلی جنس سے تعلق رکھتا ہے اور اس نے خاموشی سے ان کی مدد کی۔ ’بگ بردر‘ نے بتایا کہ کچھ افسران ادارے کے نام کا غلط استعمال کر کے رشوت لے رہے تھے، اور ان کا کام معصوم خاندانوں کی حفاظت کرنا ہے۔ جب ’بگ بردر‘ کو معاملہ معلوم ہوا تو انہوں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں این سی سی آئی اے کے آٹھ افسران سمیت نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، جو ڈکی بھائی کو مارنے کے الزام میں برطرف ہو چکے تھے، بھی شامل تھے۔
’بگ بردر‘ نے ڈکی بھائی اور ان کے خاندان کی حفاظت کی، جبکہ افسران کی کرپٹ کارروائیاں روکیں۔ ڈکی بھائی نے وی لاگ میں جذباتی ہو کر کہا کہ ’بگ بردر‘ نے انہیں بتایا کہ وہ سائے میں کام کرتے ہیں اور شہرت نہیں چاہتے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’بگ بردر‘ جنرل عاصم منیر یا ڈی جی ایم آئی سے منسلک ہو سکتے ہیں، کیونکہ ڈکی بھائی نے وی لاگ کے آخر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم، یہ شناخت تصدیق شدہ نہیں، اور یہ صرف قیاس آرائی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
ڈکی بھائی کا وی لاگ یوٹیوب پر لاکھوں وجوہات حاصل کر چکا ہے، اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ٹوئٹر (اب ایکس) پر صارفین نے #ڈکی بھائی ٹرینڈ کیا، جہاں کئی نے این سی سی آئی اے کی کرپشن کی مذمت کی۔ مثال کے طور پر، ایک صارف نے لکھا کہ “ڈکی بھائی کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ اداروں میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں، ’بگ بردر‘ جیسی شخصیات قابلِ تحسین ہیں۔” مشہور شخصیات جیسے ماڈل نادیہ حسین نے ان کی ہمت کی تعریف کی اور “سو دن کی جہنم” ختم ہونے پر مبارکباد دی۔
انٹرویور ارشاد بھٹی نے بھی اپنے پرانے انٹرویوز پر معذرت کی اور ڈکی بھائی کی حمایت کی۔ تاہم، کچھ ریڈٹ صارفین نے شک ظاہر کیا کہ یہ واقعہ پہلے سے منصوبہ بند تھا، اور ’بگ بردر‘ کا کردار سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ عوام میں یہ بحث چل رہی ہے کہ سائبر کرائم کی تحقیقات میں شفافیت کی ضرورت ہے، اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا روکا جائے۔
اداروں کی کارکردگی اور سبق
اس واقعے سے پاکستان کے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں۔ این سی سی آئی اے نے بیان دیا کہ کرپشن فرد کی ہوتی ہے، ادارے کی نہیں۔ ایف آئی اے نے گرفتاریوں کی تصدیق کی اور تحقیقات جاری رکھی ہیں۔ ڈکی بھائی نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ وہ جوا ایپس کیس کا فیصلہ قبول کریں گے اور اگر ان کا مواد کسی کو نقصان پہنچا تو معافی مانگتے ہیں۔