ہانگ کانگ: ضلع تائی پو میں خوفناک آگ، 44 ہلاک، 279 لاپتہ۔

hong kong fire at least 14 dead as more than 700 firefighters tackle blaze , ہانگ کانگ میں آگ: 14 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف

ہانگ کانگ کے نئی ٹیریٹریز علاقے تائی پو میں واقع وانگ فک کورٹ رہائشی کمپلیکس میں ۲۶ نومبر ۲۰۲۵ کی شام لگی خوفناک آگ شہر کی تاریخ کا سب سے تباہ کن فائر انسیڈنٹ بن چکی ہے۔ یہ آگ آٹھ بلاکس پر پھیلی، جہاں تعمیراتی کام کے دوران لگائے گئے بنبو سکافلڈنگ اور فوم مواد نے شعلوں کو مزید شدت دی۔ ابتدائی طور پر ۳۶ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، مگر ۲۷ نومبر کی صبح تک موت کا اعداد و شمار ۴۴ تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ۲۷۹ افراد لاپتہ ہیں۔ فائر سروسز نے چار بلاکس پر قابو پا لیا ہے، مگر تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔

  • جاں بحق: ۴۴ (ابتدائی ۳۶ سے اضافہ، زیادہ تر دم گھٹنے اور جھلس جانے سے)
  • زخمی: ۵۸ (جن میں ۷ کی حالت سنگین، ہسپتالوں میں داخل)
  • لاپتہ: ۲۷۹ (خاص طور پر اوپری منزلہ بلاکس سے)
  • متاثرہ بلاکس: ۸ میں سے ۴ پر قابو، باقی میں سرچ جاری
  • ریسکیو کیے گئے: ۲۵۰ سے زائد، مگر مکمل تعداد کا اعلان باقی

چیف ایگزیکٹو جان لی نے ۲۷ نومبر کی صبح ایمرجنسی میٹنگ طلب کی اور متاثرین کے لیے فوری امداد کا اعلان کیا۔ ہر جاں بحق کے خاندان کو ۳ ملین ہانگ کانگ ڈالر معاوضہ، زخمیوں کا مفت علاج، اور ۲,۰۰۰ عارضی ہاؤسنگ یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔ پولیس نے تین تعمیراتی کمپنی کے ملازمین—دو ڈائریکٹرز اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ—کو قتل کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا ہے، کیونکہ ابتدائی تحقیقات میں سکافلڈنگ کی غیر محفوظ تنصیب کو آگ پھیلنے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ ہاؤسنگ اتھارٹی نے ۱,۴۰۰ ٹرانزیشنل ہاؤسنگ یونٹس بھی تیار رکھے ہیں، اور تائی پو ضلعی حکام نے کمیونٹی ہالز میں پناہ گاہیں کھول دی ہیں، جن میں سے ایک رات تک بھر گئی تھی۔

آگ شام ۶ بجے کے قریب بلاک نمبر ۱ کی بیرونی دیوار کی مرمت کے دوران لگی، جہاں بنبو سکافلڈنگ اور فوم انسولیشن مواد شعلوں کی طرح جل اٹھا۔ موسم خشک تھا اور ہانگ کانگ آبزرویٹری نے ریڈ فائر وارننگ جاری کی ہوئی تھی۔ فائر ڈیپارٹمنٹ نے فائیو الارم فائر قرار دیا، جو ۱۹۹۷ کے بعد دوسرا ایسا کیس ہے۔ ۲۶۰ سے زائد فائر فائٹرز اور ۴۰ انجنیں لگائی گئیں، مگر اونچی منزلوں تک رسائی مشکل رہی۔ رات بھر چلنے والے آپریشن میں ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، اور تائی پو روڈ کا ایک حصہ بند کر دیا گیا جبکہ بسوں کی روٹ تبدیل کی گئیں۔

ہانگ کانگ کی تاریخ میں یہ سانحہ ۲۰۰۸ کے کارن وال کورٹ فائر (جس میں ۴ ہلاکتیں ہوئی تھیں) اور ۱۹۹۶ کے کولون فائر (۴۱ ہلاکتیں) سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے، جہاں پرانی عمارتوں اور تعمیراتی کام کی لاپرواہی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ وانگ فک کورٹ، جو ۱۹۸۰ کی دہائی میں بنایا گیا تائی پو کا ایک بڑا پبلک ہاؤسنگ پروجیکٹ ہے، میں تقریباً ۴,۶۰۰ سے ۵,۰۰۰ رہائشی رہتے تھے، جن میں سے بہت سے کم آمدنی والے خاندان، بوڑھے، اور بچے شامل تھے۔ آگ کی ابتدا بلاک ۱ کی چوتھی منزل سے ہوئی، جہاں ویلڈنگ کے دوران چنگاری سکافلڈنگ کے قابلِ جلن مواد سے لپٹی، اور پھر تیز ہوا کی وجہ سے دوسرے بلاکس تک پھیل گئی۔ گواہوں کے مطابق، لوگ کھڑکیوں سے چیختے رہے مگر دھوئیں اور شعلوں نے راستے روک دیے؛ کئی نے چادریں جوڑ کر رسیاں بنانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ تائی پو، جو چین کی سرحد کے قریب ایک مضافاتی علاقہ ہے، کی آبادی تقریباً تین لاکھ ہے، اور یہاں بنبو سکافلڈنگ تعمیراتی کاموں میں عام ہے، حالانکہ حکومت نے اسے آہستہ آہستہ سٹیل سے تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • ۲۶ نومبر، شام ۶:۰۰ بجے: آگ کی ابتدا بلاک ۱ میں، فائر الارم بجتا ہے۔
  • شام ۶:۱۵ بجے: شعلے سکافلڈنگ پر پھیلتے ہیں، بلاک ۲ اور ۳ تک رسائی؛ پہلی ۹۹۹ کالز آتی ہیں۔
  • شام ۶:۳۰ بجے: فائیو الارم درجہ بندی، ۵۰ فائر انجنیں موقع پر؛ روڈ بلاکس اور فلائنگ ریسٹرکشن لگا دی جاتی ہے۔
  • رات ۹:۰۰ بجے: پہلی لاشیں نکالی جاتی ہیں، ۲۰ زخمی ہسپتال پہنچائے جاتے ہیں۔
  • رات ۱۲:۰۰ بجے: چیف ایگزیکٹو سائٹ پر پہنچتے ہیں، ایمرجنسی سینٹر فعال۔
  • ۲۷ نومبر، صبح ۴:۰۰ بجے: ہلاکتوں کی تعداد ۳۶ سے بڑھ کر ۴۴ ہو جاتی ہے؛ ۲۶ ریسکیو ٹیمیں کام جاری رکھتی ہیں۔
  • صبح ۸:۰۰ بجے: فلائنگ زون ۳۰ نومبر تک توسیع؛ اسکول بند اور ٹرانسپورٹ معطل۔

ہلاک شدگان میں ۱۵ بچے (عمر ۵ سے ۱۲ سال)، ۲۰ بوڑھے (۶۵ سال سے زائد)، اور ۹ جوان شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے ۷ کی حالت سنگین ہے، جنہیں پرائیوٹ اور پبلک ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کی اکثریت بلاکس ۵، ۶، اور ۷ سے ہے، جہاں آگ سب سے شدید تھی۔ ایک دلخراش واقعہ میں، ایک ماں نے اپنے دو بچوں کو کھڑکی سے نیچے اتارا مگر خود دھوئیں سے شہید ہو گئی۔ ایک بوڑھے جوڑے کی لاشیں ساتویں منزل سے ملیں، جو ایک دوسرے کو تھامے ہوئے تھیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں فائر فائٹرز کو لوگوں کو گلے لگا کر نکالنے کے مناظر دیکھے گئے، جو انسانی ہمدردی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تقریباً ایک ہزار زندہ بچ جانے والے رہائشیوں کو کمیونٹی پناہ گاہوں میں رکھا گیا ہے، اور پولیس نے ہلاکتوں کی ہاٹ لائن قائم کی ہے۔

کل متاثرلاپتہزخمیجاں بحققومیت/گروپ
۱۷۷۱۴۰۱۵۲۲مقامی ہانگ کانگی/چینی
۵۹۴۵۶۸جنوبی ایشیائی (بھارتی/پاکستانی)
۵۰۳۸۵۷جنوب مشرقی ایشیائی (فلپائنی/انڈونیشیائی)
۲۵۲۰۲۳دیگر (افریقی/مغربی)
۱۰۵۸۰۱۰۱۵بچے (تمام قومیت)
۹۲۶۰۱۲۲۰بوڑھے (تمام قومیت)

(یہ اعداد و شمار ہاؤسنگ اتھارٹی اور ہسپتال رپورٹس پر مبنی ہیں؛ حتمی تصدیق جاری ہے۔)

پولیس نے تین ملازمین—دو انجینئرز اور ایک کنٹریکٹر—کو گرفتار کیا ہے، جن پر لاپرواہی کا الزام ہے۔ فائر سروسز کا ابتدائی رپورٹ کہتا ہے کہ سکافلڈنگ میں استعمال ہونے والا فوم مواد (پولی یوریتھین) تیزی سے پھیلنے والا تھا، اور مرمت کام کی اجازت میں سیفٹی چیکس کی کمی تھی۔ حکومت نے ایک آزاد کمیشن قائم کیا ہے جو ۳۰ دن میں رپورٹ پیش کرے گا۔ ماہرینِ تعمیرات کہہ رہے ہیں کہ ہانگ کانگ میں ۱۰,۰۰۰ سے زائد پرانی عمارتیں ایسی ہیں جہاں سکافلڈنگ کے دوران فائر رسکس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ عمارت کی بیرونی دیواروں پر لگایا گیا حفاظتی جال اور پلاسٹک شیٹنگ نے آگ کو مزید تیزی سے پھیلایا۔

ریڈ کراس ہانگ کانگ اور ہاؤسنگ اتھارٹی نے مل کر ۵۰۰ ملین ہانگ کانگ ڈالر کا ریلیف فنڈ قائم کیا ہے، جو اب تک ۷۰ فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر چین، امریکہ، اور برطانیہ نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر #TaiPoFire اور #HongKongFireBlaze ٹرینڈز چل رہے ہیں، جہاں لوگ متاثرین کے لیے کپڑے، کھانا، اور مالی امداد اکٹھی کر رہے ہیں۔ ایجوکیشن بیورو نے تائی پو کے چھ اسکولوں کو ۲۷ نومبر کے لیے بند کر دیا ہے تاکہ ٹریفک اور ریسکیو میں آسانی ہو۔ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے علاقے کی سڑکیں بند کر دیں، اور ایم ٹی آر سروس معطل ہے۔ کئی فورمز اور ۷ دسمبر کے انتخابات سے متعلق مہمات منسوخ کر دی گئیں۔

یہ سانحہ شہری سیفٹی کے نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کی تجاویز میں شامل ہیں: تمام سکافلڈنگ پر فائر پروف مواد لازمی، سالانہ آڈٹس، اور پبلک ہاؤسنگ میں جدید اسپرنکلر سسٹم۔ چیف ایگزیکٹو نے وعدہ کیا ہے کہ ۲۰۲۶ تک تمام پرانی عمارتوں کا انسپکشن ہوگا۔ موسم کی شدت (خشک ہوائیں) نے بھی آگ کو ہوا دی، اس لیے فائر وارننگ سسٹم کو مزید موثر بنانا ضروری ہے۔

زمرہتعدادتبصرہ
جاں بحق۴۴صبح ۱۰ نئی لاشیں نکالی گئیں
زخمی۵۸ سنگین ۷، آئی سی یو میں ۲۰
لاپتہ۲۷۹ڈی این اے اور ڈرون سرچ جاری
ریسکیو کیے گئے۲۵۰+چار بلاکس سے مکمل نکالا
بے گھر خاندان۱,۲۰۰+عارضی کیمپس میں منتقل
فائر فائٹرز تعینات۲۶۰تاریخ ۲۹ نومبر تک آپریشن جاری

یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہری ترقی میں حفاظت کو کبھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام شہیدوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو شفا دے، اور لواحقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین۔ اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو ریڈ کراس ہانگ کانگ کے ریلیف فنڈ میں چندہ دیں۔ یہ رپورٹ مسلسل اپ ڈیٹ ہو رہی ہے، کیونکہ تلاش آپریشن اب بھی جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین خبریں