Can the Iranian Regime Survive the Next 72 Hours? | کیا ایرانی رجیم اگلے 72 گھنٹوں میں زندہ رہ سکے گی؟

Can the Iranian Regime Survive the Next 72 Hours? | کیا ایرانی رجیم اگلے 72 گھنٹوں میں زندہ رہ سکے گی؟

  • تازہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایرانی رجیم بہت بڑے دباؤ میں ہے مگر اگلے 72 گھنٹوں میں اس کے مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان کم لگتا ہے کیونکہ اس کی فوجی اور انتظامی ساخت ایسے حالات کا سامنا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
  • شواہد کی طرف جھکاؤ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور صورتحال ابھی جاری ہے۔
  • یہ معاملہ متنازع ہے؛ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ رجیم تبدیل ہو سکتی ہے جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ یہ اب بھی قائم رہ سکتی ہے۔ ایرانی عوام دونوں طرف سے متاثر ہو رہے ہیں اور علاقائی امن سب کے لیے اہم ہے۔

حالیہ صورتحال
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے ہیں۔ تہران سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت ختم کرنے کے لیے ہے اور ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت بدل لیں۔ ایران نے فوری جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ یہ سب کچھ جوہری بات چیت ناکام ہونے کے بعد ہوا ہے۔

ممکنہ نتائج
ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے 72 گھنٹوں میں رجیم کی بقا کا انحصار اس کی اندرونی یکجہتی اور جوابی کارروائیوں پر ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ حملے رجیم کو کمزور کر سکتے ہیں مگر فوری تبدیلی نہیں آئے گی۔ علاقائی ممالک بھی اس تناؤ سے متاثر ہو رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

کیا ایرانی رجیم اگلے 72 گھنٹوں میں زندہ رہ سکے گی؟ یہ سوال آج پورے علاقے میں گونج رہا ہے جب 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی اس وقت ہوئی ہے جب جنیوا میں جوہری بات چیت ناکام ہو چکی تھی۔ مختلف معتبر ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ حملے ایران کی میزائل تنصیبات، فوجی اڈوں اور ممکنہ طور پر قیادت کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ یہ آپریشن امریکی عوام کی حفاظت کے لیے ہے اور ایرانی عوام کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو تبدیل کر لیں۔ انہوں نے اسے بڑی فوجی کارروائی قرار دیا ہے جو کئی دن تک جاری رہ سکتی ہے۔

اسرائیلی حکام نے بھی تصدیق کی کہ یہ حملہ ایران کی طرف سے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تہران میں دھواں اٹھتا دیکھا گیا اور ہوائی دفاع کے سائرن بجے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ غیر قانونی ہے اور وہ دفاع کا حق استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے اور بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ الجزیرہ اور سی این این جیسی نیوز ایجنسیوں نے ان جوابی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال ایرانی رجیم کے لیے کتنی خطرناک ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ پہلے 72 گھنٹوں میں رجیم کی بقا کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ اس کی اندرونی قیادت کتنی متحد رہتی ہے اور فوج کتنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے۔ ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم برسوں سے ایسے دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کی ساخت ایسی ہے کہ بیرونی حملوں کے باوجود بھی وہ کچھ عرصہ تک چل سکتی ہے۔ دوسری طرف کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر قیادت کے اہم افراد متاثر ہوئے تو یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کرد علاقوں میں مخالف گروہوں نے پہلے ہی پوسٹ رجیم دور کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے جو بتاتا ہے کہ کچھ لوگ تبدیلی کی امید کر رہے ہیں۔

پچھلے چند ماہ کی بات کریں تو ایران میں معاشی مشکلات اور احتجاج بڑھ رہے تھے۔ جنوری میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اب یہ فوجی حملے ان مشکلات کو اور بڑھا رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد جوہری پروگرام ختم کرنا اور میزائل انڈسٹری کو تباہ کرنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی ردعمل تیز ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ رجیم جلد ہی گر جائے گی اور ایرانی عوام کو آزادی ملے گی۔ دوسرے نے کہا کہ یہ حملے ایرانی عوام اور حکومت کو ایک کر دیں گے اور رجیم مزید مضبوط ہو جائے گی۔ کچھ لوگ علاقائی جنگ کی فکر کر رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں کہ خلیجی ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ رائے عام ہے کہ ایرانی عوام الگ ہیں اور انہیں اس تنازع میں نہیں پھنسنا چاہیے۔

ابھی تک کی صورتحال یہ ہے کہ حملے جاری ہیں اور ایران کی طرف سے جوابی کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں۔ امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ علاقائی ممالک میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پہلے 72 گھنٹوں میں اگر رجیم اپنی فوج اور عوام کو متحد رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ اس دباؤ کو برداشت کر سکتی ہے۔ مگر اگر اندرونی تقسیم ہوئی تو صورتحال بدل سکتی ہے۔

ایک تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے حملوں میں رجیم فوری طور پر نہیں گرتی بلکہ وہ مزید سخت ہو جاتی ہے۔ دوسرا تجزیہ کہتا ہے کہ اگر یہ کارروائی کئی دن تک جاری رہی تو اقتصادی نقصان اس قدر بڑھ جائے گا کہ رجیم کے لیے چلنا مشکل ہو جائے گا۔ ایرانی کرد گروہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر رجیم گر گئی تو وہ اپنے علاقوں میں خودمختار انتظام قائم کریں گے۔ یہ بتاتا ہے کہ مخالف قوتیں تیار ہیں مگر ابھی تک کوئی بڑی بغاوت کی خبر نہیں آئی۔

اس پورے معاملے میں ایرانی عوام کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ مختلف ملکوں کے رہنما بھی ردعمل دے رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی بڑا امن کا پیغام سامنے نہیں آیا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ جلد ہی کوئی راستہ نکل آئے تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔ یہ جائزہ تازہ ترین رپورٹس پر مبنی ہے اور صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔

ایران میں پچھلے سال جون میں بھی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مختصر جنگ ہوئی تھی جس کے بعد جوہری بات چیت شروع ہوئی۔ مگر مطالبات پورے نہ ہو سکے۔ اب یہ نئی کارروائی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ الجزیرہ نے ایک ٹائم لائن شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بات چیت سے حملوں تک پہنچا۔

اس ٹائم لائن سے واضح ہے کہ کس طرح چند گھنٹوں میں صورتحال بدلی۔ ابھی تک کوئی بڑا اندرونی بغاوت یا قیادت کی تبدیلی کی خبر نہیں آئی جو بتاتی ہے کہ رجیم ابھی کنٹرول میں ہے۔ مگر اگلے چند گھنٹوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رجیم کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے فوجی افسروں اور عوام کو کتنا ساتھ رکھ پاتی ہے۔ اگر لوگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کریں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ دوسری طرف ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ یہ حملہ عوام کے خلاف ہے اور سب متحد رہیں۔

علاقائی اثر کی بات کریں تو خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے احتیاطی تدابیر شروع کر دی ہیں۔ یہ تنازع پورے مشرق وسطیٰ کو متاثر کر رہا ہے۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہے کہ ایرانی رجیم کے لیے یہ مشکل وقت ہے مگر اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ایسے دباؤ سے گزر چکی ہے۔ عوام کی فلاح اور امن سب کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے معتبر ذرائع پر نظر رکھیں۔

What exactly happened on February 28, 2026, with the strikes on Iran?

The United States and Israel launched a major joint military operation against Iran, named “Operation Epic Fury” by the US and “Roaring Lion” by Israel. Strikes targeted locations in Tehran and other cities, including military sites, missile facilities, and reportedly areas linked to Iranian leadership. President Donald Trump announced “major combat operations” in a video message, stating the goal was to eliminate Iran’s nuclear and missile threats. Iran responded with missile strikes on Israel and US bases in several Gulf countries, including Bahrain, Qatar, UAE, Kuwait, and others. Explosions were reported across the region, with air defenses intercepting many missiles.

Why did the US and Israel carry out these strikes now?

The attacks followed failed negotiations over Iran’s nuclear program. Earlier talks, including in Geneva, did not meet US demands to limit or dismantle Iran’s nuclear and ballistic missile capabilities. Tensions escalated after previous incidents, including Iran’s responses to regional events and ongoing concerns about its nuclear ambitions. President Trump described the action as necessary to prevent Iran from threatening US and allied security, and he urged Iranians to “take over your government” for regime change.

Has the Iranian regime already collapsed or is it close to collapsing in the next few days?

No, the regime has not collapsed as of now. Reports describe it as under severe pressure, with some analysts noting it faces the most serious challenge in decades due to strikes targeting leadership and military assets, combined with internal protests and economic issues. However, the regime’s security forces and structure have historically survived major crises. Some sources suggest the first 72 hours are critical for assessing internal unity and retaliation effectiveness, but full collapse is not confirmed and depends on many factors like command control and public response. The situation remains fluid and ongoing.

What has been Iran’s response so far, and how effective was it?

Iran launched retaliatory missile attacks toward Israel and multiple US military sites in Gulf states. Many missiles were intercepted by regional air defenses, with limited reported damage (e.g., one civilian death from debris in the UAE). Iranian state media reported civilian casualties from the initial strikes, including at a school. The response widened the conflict by involving several neutral or mediating countries, potentially isolating Iran further diplomatically.

What could happen next in the region, and is there risk of a bigger war?

The conflict is ongoing, with possibilities of continued strikes, more retaliation, or escalation involving other actors. Oil prices and regional stability are already affected, with flight cancellations and heightened alerts. Analysts warn of risks like broader involvement of Gulf states or impacts on global energy supplies. Diplomatic efforts may emerge, but current statements from leaders indicate sustained military pressure. The coming days will be key in determining if this leads to regime change, a negotiated pause, or wider confrontation. Everyone hopes for de-escalation to protect civilians on all sides.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *