How many hours are left before America attacks Iran? | امریکہ کا ایران پر حملے کے کتنے گھنٹے باقی ہیں؟

امریکہ کا ایران پر حملے کے کتنے گھنٹے باقی ہیں؟

How many hours are left before America attacks Iran? | امریکہ کا ایران پر حملے کے کتنے گھنٹے باقی ہیں؟

  • آج 26 فروری 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنوا میں امریکہ اور ایران کی تیسری دور کی بالواسطہ جوہری بات چیت شروع ہو چکی ہے، اس لیے ابھی کوئی فوری حملہ نہیں ہوا۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو ترجیح دی ہے مگر فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھا ہے۔
  • امریکہ نے بات چیت سے پہلے نئی پابندیاں لگائیں جبکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ دفاع کے لیے مکمل تیار ہے۔
  • صورت حال کشیدہ ہے مگر دونوں فریق ابھی جنگ سے گریز کر رہے ہیں، نتیجہ بات چیت پر منحصر ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ اب بھی بلند ہے لیکن آج کی بات چیت سے کچھ امید جڑی ہے۔ امریکی فوج کا بڑا بیڑہ علاقے میں موجود ہے مگر کوئی مخصوص گھنٹوں کی ڈیڈ لائن نہیں بتائی گئی۔ قارئین کو تازہ ترین صورت حال پر نظر رکھنے کا مشورہ ہے کیونکہ حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

جنوا میں بات چیت کیسے جا رہی ہے
آج صبح سے جنوا میں عمان کی ثالثی میں تیسری دور کی بات چیت جاری ہے۔ امریکی نمائندے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ٹیمیں بیٹھی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پرامن حل چاہتے ہیں مگر ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔

فوجی تیاریاں اب بھی جاری
امریکہ نے دو طیارہ بردار بحری جہاز (ابراہم لنکن اور جیرالڈ آر فورڈ) سمیت بڑا بیڑہ علاقے میں تعینات کیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں مشقیں کی ہیں اور کہا ہے کہ کوئی حملہ ہوا تو جواب فوری اور سخت ہوگا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ سال جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی جوہری مقامات پر حملے کیے تھے جس کے بعد ایران نے جواب دیا اور ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ اب 2026 میں صورت حال دوبارہ سنگین ہوئی تھی جب ٹرمپ نے جوہری پروگرام اور احتجاجیوں پر تشدد کے حوالے سے سخت بیانات دیے۔ تاہم آج 26 فروری 2026 تک کوئی کھلا فوجی حملہ نہیں ہوا۔

تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ آج جنوا میں امریکہ اور ایران کی تیسری دور کی بالواسطہ جوہری بات چیت شروع ہو چکی ہے۔ عمان ثالثی کر رہا ہے۔ بات چیت سے پہلے امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں جو تیل کی فروخت اور میزائل پروگرام سے جڑی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ وہ سفارت کاری سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں مگر ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔ ایرانی حکام نے ان الزامات کو جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں بڑی تعداد میں جنگی جہاز اور طیارے تعینات کیے ہیں۔ دو طیارہ بردار بحری جہاز علاقے میں موجود ہیں جو دباؤ بڑھانے کے لیے ہیں۔ ایران نے بھی اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز اور جنوبی ساحل پر مشقیں کی ہیں جن میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر حملہ ہوا تو امریکی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان بڑا فرق ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران جوہری افزودگی مکمل طور پر روک دے اور اپنا ذخیرہ بیرون ملک منتقل کر دے۔ ایران کہتا ہے کہ وہ کوئی بھی معاہدہ دھمکیوں کے بغیر کرے گا اور اپنے پرامن حقوق کا تحفظ کرے گا۔ ترکی، قطر اور دیگر ممالک بھی امن کی کوششیں کر رہے ہیں۔

  • جون 2025: امریکہ اور اسرائیل کے جوہری مقامات پر حملے، ایران کا میزائل جواب
  • 28 جنوری 2026: ٹرمپ کی بحری بیڑے کی تعیناتی اور فوجی کارروائی کی دھمکی
  • 24 فروری 2026: ٹرمپ کا قومی خطاب، ایران پر الزامات
  • 25 فروری 2026: امریکہ کی نئی پابندیاں
  • 26 فروری 2026: جنوا میں تیسری دور کی بات چیت شروع

یہ صورت حال اگر بات چیت سے حل نہ ہوئی تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دونوں ملک جنگ سے گریز کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں مگر فوجی تیاریاں خطرے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ قارئین کو مشورہ ہے کہ معتبر ذرائع جیسے الجزیرہ، سی این این اور رائٹرز پر نظر رکھیں۔

How many hours are left before America attacks Iran?

No exact number of hours or countdown has been announced. President Trump has warned of possible military action if no nuclear deal is reached, but as of February 26, 2026, the focus is on ongoing talks in Geneva rather than an immediate strike.

Are the US and Iran talking right now to avoid war?

Yes. The third round of indirect nuclear talks started today in Geneva, Switzerland, with Oman helping as mediator. Both sides say they prefer a diplomatic solution, though the United States keeps military options open.

How strong is the US military near Iran at this moment?

The US has one of the largest build-ups in decades, with two aircraft carriers, warships, and warplanes in the Middle East. This is to put pressure on Iran during the talks, but no attack orders have been given.

What does Iran say it will do if attacked?

Iran has said it is ready for either peace or war. Iranian officials promise a strong, immediate response to any strike, including attacks on US bases, while also showing some flexibility in the current negotiations.

What are the main things the two sides are arguing about?

The big issues are Iran’s nuclear program (how much uranium it can enrich), its missile work, and US sanctions. The US wants Iran to stop enrichment completely and move its stockpile out of the country. Iran says it will only agree to a fair deal without threats.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین خبریں