پاکستان کی فوج نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ سابق انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال کی سخت قید کی سزا دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک طویل سماعت کے بعد سامنے آیا ہے، جو ملک کی فوجی روایات میں ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔ آج کی اس خبر میں ہم اس واقعے کی تفصیلات، پس منظر اور اثرات پر بات کریں گے، تاکہ قارئین کو مکمل تصویر مل سکے۔ یہ سزا سیاسی مداخلت، اختیار کے غلط استعمال اور رازداری کے قانون کی خلاف ورزی جیسے الزامات پر دی گئی ہے، جو پاکستان کی سیاسی اور فوجی دنیا میں ہلچل مچا رہی ہے۔
فیض حمید کون ہیں؟ ان کی فوجی زندگی کا جائزہ
فیض حمید ایک تجربہ کار فوجی افسر ہیں، جو بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 2019 سے 2021 تک آئی ایس آئی کی سربراہی سنبھالی، جو پاکستان کی سب سے اہم انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ اس دور میں وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریب سمجھے جاتے تھے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث رہے۔ 2022 میں انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تھی، جو ان کی فوجی کیریئر کا اختتام تھا۔
ان کی شہرت 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک فوٹو سے ہوئی، جہاں وہ چائے پیتے دکھائی دیے۔ یہ تصویر بھارتی پائلٹ ابھینندن وارتھامن کے مشہور بیان “چائے بہت مزہ ہے” کی طرف اشارہ تھی، جو 2019 کی بالاکوٹ کارروائی کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس فوٹو نے پاکستان کی افغان پالیسی پر بحث چھیڑ دی تھی۔ بعد میں، پاکستان کے دفاع وزیر اسحاق ڈار نے اسے “مہنگی چائے” قرار دیا، کیونکہ اس کے نتیجے میں سرحد پار دہشت گردوں کی آمد بڑھ گئی تھی۔
فیض حمید کا نام پہلے بھی متنازعہ معاملات میں سامنے آتا رہا، جیسے 2017 کا فیض آباد دھرنا، جہاں انہوں نے حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدے میں کردار ادا کیا۔ سپریم کورٹ نے اس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، اور نواز شریف جیسے رہنماؤں نے ان پر سیاسی مداخلت کے الزامات لگائے۔ یہ سب کچھ ان کی گرفتاری اور عدالت کی سماعت کا پس منظر بن گیا۔
عدالت کی کارروائی: الزامات اور سزا کی تفصیلات
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کا عمل 12 اگست 2024 کو شروع ہوا، جو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت چلایا گیا۔ یہ سماعت 15 ماہ تک چلی، جس میں چار بڑے الزامات کی جانچ کی گئی۔ عدالت نے فیض حمید کو تمام الزامات میں مجرم قرار دیا اور 14 سال کی سخت قید کی سزا سنائی، جو 11 دسمبر 2025 کو نافذ العمل ہوئی۔
الزامات میں شامل تھے۔
- سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، جو فوجی افسران کے لیے ممنوع ہے۔
- آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
- اختیار اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال۔
- افراد کو نقصان پہنچانا، خاص طور پر ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سکینڈل میں۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ ملزم کو اپنا دفاع کرنے کا مکمل موقع دیا گیا، بشمول اپنی مرضی کی قانونی ٹیم کا انتخاب۔ وہ اب اعلیٰ فورم میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ البتہ، ان کی سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پھیلانے میں ملوثیت کی الگ تحقیقات چل رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر مئی 2023 کی فسادات سے جڑی ہو سکتی ہیں۔
یہ سزا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے جب کسی سابق آئی ایس آئی سربراہ کو فوجی عدالت میں سزا دی گئی۔ یہ فوج کی اندرونی احتساب کی ایک مثال ہے، جو اعلیٰ افسران کو بھی نہیں بخشتی۔
سیاسی ردعمل: ملک بھر میں بحث
اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں گرم بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاع وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ “ملت کو فیض حمید اور سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے بیجوں کی کٹائی ابھی برسوں تک کرنی پڑے گی”۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اسے خوش آئند قرار دیا، کہتے ہوئے کہ “ایک کپ چائے نے ہمارے صوبے کو برباد کر دیا”، جو کابل وزٹ کی طرف اشارہ تھا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں میں یہ خبر پریشانی کا باعث بنی، کیونکہ فیض حمید کو ان کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹس میں کچھ لوگ اسے فوج کی اندرونی صفائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے عمران خان کے خلاف سازش کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک صارف نے لکھا: “یہ احتساب نہیں، فوج اپنی سیاسی غلطیوں کو چھپا رہی ہے”۔ دوسری طرف، کئی نے فوج کی خود احتسابی کی تعریف کی۔
حکومت اور فوج دونوں کا موقف ہے کہ یہ قانون کی حکمرانی کی فتح ہے، جو کسی بھی عہدیدار کو چھوٹ نہیں دیتی۔ تاہم، ناقدین کہتے ہیں کہ یہ سیاسی انتقام ہو سکتا ہے، خاص طور پر موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دور میں۔
پاکستان کی فوجی اور سیاسی دنیا پر اثرات
یہ سزا پاکستان کی سول ملٹری تعلقات میں ایک موڑ لا سکتی ہے۔ فوج نے واضح پیغام دیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سیاسی مداخلت برداشت نہیں ہوگی۔ یہ سابق آرمی چیفوں جیسے قمر جاوید باجوہ کے دور کی غلطیوں کا احتساب بھی سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر، یہ خبر انڈیا اور افغانستان جیسے ہمسایوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ انڈیا میں میڈیا نے اسے “چائے کی سزا” کہہ کر مذاق اڑایا، جبکہ افغان حلقوں میں اسے پاکستان کی اندرونی صفائی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ملک کے اندر، یہ احتساب کا عمل تیز کر سکتا ہے، جو دیگر افسران کے لیے سبق بنے گا۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کی عدالتوں پر سوالات اٹھتے رہیں گے، کیونکہ ان کی شفافیت ہمیشہ زیر بحث رہتی ہے۔ مستقبل میں، یہ کیس پاکستان کی جمہوریت اور فوجی بالادستی کی بحث کو نئی سمت دے گا۔
آخری الفاظ
فیض حمید کی سزا ایک ایسا باب ہے جو پاکستان کی تاریخ میں درج ہو جائے گا۔ یہ نہ صرف انفرادی احتساب کی کہانی ہے، بلکہ ملک کی اداروں کی خود اصلاح کی بھی۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر نظر رکھیں، کیونکہ اس کی لہریں دور دور تک جائیں گی۔ آپ کے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں۔