پنجاب حکومت نے حال ہی میں فیصل آباد اور گوجرانوالہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے میٹرو بس سروس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام شہریوں کو آسان اور ماحول دوست سفر کی سہولت فراہم کرے گا، جس سے ٹریفک کی بھیڑ کم ہو گی اور روزمرہ کی زندگی آسان ہو گی۔ یہ پروجیکٹ پنجاب کی ٹرانسپورٹ ویژن 2030 کا حصہ ہیں اور یہ دونوں شہروں میں اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے۔
- منظوری اور لاگت: پنجاب حکومت نے فیصل آباد میں 70 ارب روپے کی لاگت سے میٹرو بس سروس کی منظوری دی ہے، جبکہ گوجرانوالہ میں 62.7 ارب روپے کی ییلو لائن کوریڈور کا آغاز کیا گیا ہے۔
- ٹائم لائن: گوجرانوالہ کا پروجیکٹ ایک سال میں مکمل ہو گا، جبکہ فیصل آباد کا پروجیکٹ جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
- فوائد: یہ پروجیکٹ گرین انرجی پر چلیں گے، جو ماحول کو صاف رکھنے میں مدد دیں گے اور ہزاروں مسافروں کو روزانہ فائدہ پہنچائیں گے۔ تاہم، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاگت اور عمل درآمد پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ پروجیکٹ کامیاب ہوں۔
پروجیکٹ کی اہمیت
یہ میٹرو توسیع پنجاب کے شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں یہ اقدام عوام کو ریلیف دینے کا مقصد رکھتا ہے۔
تفصیلات اور منصوبہ بندی
دونوں شہروں میں یہ سروس شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جا رہی ہے، جس میں الیکٹرک بسیں اور جدید سٹیشن شامل ہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں میٹرو کی توسیع ایک بڑا منصوبہ ہے جو صوبے کی ٹرانسپورٹ سسٹم کو جدید بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ یہ پروجیکٹ نہ صرف شہریوں کو آسان سفر کی سہولت دیں گے بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیں گے۔ حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کا سنگ بنیاد رکھا، جو ییلو لائن کوریڈور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ 31 کلومیٹر لمبا راستہ آئمین آباد سے گکھڑ منڈی تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں 25 بسیں سٹیشن بنائے جائیں گے، جن میں ایک انڈر گراؤنڈ سٹیشن بھی شامل ہے۔ یہ پورا سسٹم گرین انرجی پر چلے گا اور روزانہ کم از کم 51 ہزار مسافروں کو فائدہ پہنچائے گا۔ پروجیکٹ کی لاگت 62.7 ارب روپے ہے اور اسے ایک سال میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ پنجاب کی ٹرانسپورٹ ویژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا ہے۔
فیصل آباد میں بھی میٹرو بس سروس کی منظوری دی گئی ہے، جس کی لاگت 70 ارب روپے ہے۔ یہ پروجیکٹ فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی نگرانی میں ہو گا اور اس کا مقصد شہر کے اندر سفر کو آسان اور سستا بنانا ہے۔ اس میں 20 کلومیٹر لمبی اورنج لائن کوریڈور شامل ہے، جہاں 27 میٹرو بسیں اور دو ٹرامیں چلائی جائیں گی۔ فیصل آباد کے رہائشیوں کے لیے یہ ایک بڑی راحت ہو گی، کیونکہ شہر کی آبادی بڑھ رہی ہے اور ٹریفک ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ پروجیکٹ ماحول دوست ہو گا اور آلودگی کو کم کرے گا۔ تاہم، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ لاگت بہت زیادہ ہے اور اسے شہر کی اصل ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا جائے۔
گوجرانوالہ پروجیکٹ کی تفصیلات
گوجرانوالہ کا ماس ٹرانزٹ سسٹم جی ٹی روڈ کے ساتھ بنایا جا رہا ہے۔ اس میں 36 الیکٹرک بسیں شامل ہوں گی جو مسافروں کو تیز اور آرام دہ سفر فراہم کریں گی۔ سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پروجیکٹ عوام کے لیے ایک تحفہ ہے اور یہ طلبہ، مریضوں، مزدوروں اور وکیلوں سمیت سب کو فائدہ دے گا۔ ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار اور دیگر وزراء بھی تقریب میں موجود تھے۔ یہ پروجیکٹ پنجاب کی ترقی کی طرف ایک قدم ہے اور یہ دیگر شہروں میں بھی توسیع کی جا سکتی ہے۔
فیصل آباد پروجیکٹ کی تفصیلات
فیصل آباد میں میٹرو بس سروس کا پی سی ون تیار ہو چکا ہے اور فنڈز کی ریلیز کا انتظار ہے۔ یہ پروجیکٹ ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا اور اب اس پر کام شروع ہونے والا ہے۔ شہر کے ٹاؤن پلانرز کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم شہر کی ٹرانسپورٹ کو تبدیل کر دے گا۔ تاہم، کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لاگت کی وجہ سے کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔
فوائد اور چیلنجز
یہ پروجیکٹ شہریوں کو کئی فوائد دیں گے جیسے ٹریفک کی کمی، ماحول کی حفاظت اور اقتصادی ترقی۔ لیکن چیلنجز بھی ہیں جیسے فنڈنگ اور بروقت تکمیل۔ حکومت کو چاہیے کہ شفافیت کو یقینی بنائے۔
| تکمیل کی مدت | گاڑیوں کی تعداد | راستہ | لمبائی (کلومیٹر) | لاگت (ارب روپے) | شہر | پروجیکٹ کا نام |
|---|---|---|---|---|---|---|
| ایک سال کے اندر | الیکٹرک 36 بسیں | ایمن آباد سے گکھڑ منڈی تک جی ٹی روڈ کے ساتھ | 31 | 62.7 | گوجرانوالہ | ییلو لائن کوریڈور |
| سنگ بنیاد جلد، مکمل ہونے کی مدت طے ہونا باقی | میٹرو 27 بسیں + 2 ٹرامیں | فیصل ٹاؤن جڑانوالہ روڈ سے طاہر پور جھنگ روڈ تک | 20 | 70 | فیصل آباد | اورنج لائن کوریڈور |
یہ پروجیکٹ پنجاب کی دیگر ترقیاتی سکیموں جیسے کینسر ہسپتال اور الیکٹرک بسیں کے ساتھ مل کر صوبے کو جدید بنائیں گے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کی بہت بحث ہو رہی ہے، جہاں لوگ اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں لیکن کچھ شہروں کو ترجیح دینے پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ ایک مثبت قدم ہے جو پنجاب کے شہریوں کی زندگی کو بہتر بنائے گا۔